ٹیپو سلطان کو جس طرح ہندو مخالف کے طور پر بدنام کیاگیامجھے بھی ویسے ہی بدنام کیا جارہاہے: سدرامیا

0
129
- Advertisement - Niyaaz Ad

 

بنگلورو۔   ٹیپو سلطان کے تعلق سے بیشمار من گھڑت اور فرضی کہانیاں گھڑکر انہیں ہندو مخالف کے طور پر بدنام کیا گیا۔ آج اسی نہج پر مجھے بھی ہندو مخالف کے طور پر جان بوجھ کر بدنام کیاجارہاہے۔ سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا نے شہر کے اوکلی پورم میں کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ کے اعزاز میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

انہوں نے سوال کیا کہ ٹیپو سلطان نے آخر ان کا کیا بگاڑا ہے جو انہیں بدنام کرتے پھررہے ہیں۔ ؟ ٹیپو سلطان نے کیا ایسی غلطی کی ہے ، کیا ٹیپو سلطان کی یہ غلطی تھی کہ انہوں نے دیوان پورنیا کو اعلیٰ ترین عہدے پرفائز کیاتھا؟۔ کیا ٹیپو سلطان کی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے شرنگیری مٹھ سمیت کئی ہندو مندروں اور مٹھوں کو امداد دی۔ تاریخ میں کسی بھی سلطان نے اپنے بچوں کو رہن نہیں رکھاتھا، لیکن ٹیپو سلطان نے ریاست کے عوام کے لئے اپنے بچوں کو انگریزوں کے پاس رہن رکھا۔ اس کے باوجود ٹیپو سلطان کو چند مفاد پرست ہندو مخالف کا لیبل چسپاں کرکے فرضی کہانیاں گھڑرہے ہیں۔ آج مجھے ہندو مخالف کے طور پر پیش کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کیا میں ہندو مخالف ہوں؟ ۔کیا بطور وزیراعلیٰ میں نے جو ’’انا بھاگیہ ‘‘ پرو گرام کے تحت چاول کی تقسیم صرف مسلمانوں کے لئے ہی کی ہے۔کیا سرکاری اسکولوں میں جو پروگرام میں نے ’’ کشیرا بھاگیہ ‘‘ شروع کیاتھا اس اسکیم کے تحت صرف مسلمان بچے ہی دودھ پی رہے ہیں؟۔ کیا ان بہبودی کی اسکیموں سے ہندوبچوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ کیا صرف مسلمانوں کو ہی نظر میں رکھتے ہوئے یہ اسکیمیں مرتب کی گئی تھیں۔

یہی نہیں بلکہ تمام سرکاری دفاتر میں بسونا کی تصویر لگانے میری حکومت نے احکامات جاری کئے۔ وجئے پورہ یونیورسٹی کا نام اکامہادیوی کے نام سے میری دور حکومت میں منسوب کیاگیااور میری ہی حکومت نے کیمپے گوڈا جینتی ، وشواکرما جینتی ، ماچی دیورا جینتی سمیت 13جینتیاں منائیں۔ اسی طرح ٹیپو جینتی منائی گئی تو اس میں کیا غلطی ہوگئی ، صرف ٹیپو جینتی منانے کے سبب مجھے ہندو مخالف کہاجارہاہے۔ بتایاجارہا ہے کہ میں لادنیت ، مذہب بیزار ، شخص ہوں۔ انہوں نے بی جے پی سے سوال کیا کہ کیا ووٹ کی خاطر پارٹی مذہب کو افیم کی طرح استعمال نہیں کررہی ہے۔پروگرام میں کے پی سی سی صدر دنیش گنڈوراؤ اور سابق اسپیکر ویرنا متی کتی اور دیگر موجود تھے۔

source-sahil on line

Niyaaz Ad

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here